Urdu Stories وہ دونوں بھاگ کر نکاح کے لئے مولوی صاحب کے پاس جانے والے تھے تمام گواہوں کا بھی انتظام

Hyderabad, Sindh, PK Check with seller

7 months ago All All 18508 hits ID #450

Description

وہ دونوں بھاگ کر نکاح کے لئے مولوی صاحب کے پاس جانے والے تھے تمام گواہوں کا بھی انتظام ہو چکا تھا.. مگر جب وہ لڑکا اس لڑکی معصومہ کو اس کے گھر سے بھگا لے جانے آیا تو معصومہ نے لڑکے کے ہاتھ میں ایک کاغذ دے کر اس سے کہا کہ بغیر کوئی سوال کیے واپس گھر لوٹ جاؤ...

سب دوست جو ساتھ آئے تھے حیران رہ گئے.. بہت تلخ الفاظ میں لڑکی کو طعنہ دینے لگے. مگر وہ دروازے سے باہر نہ ہوئی اور کہا کہ دنیا میں اکثر لوگ اس لیے برباد ہوتے چلے جاتے ہیں کیونکہ وہ مکافات عمل کی چکی میں پھنسے رہتے ہیں عمل در عمل ہوتا چلا جاتا ہے مکافات کی چکی چلتی رہتی ہے رکتی نہیں... ایسے میں وہی چند دانے پسنے سے بچ پاتے ہیں جو شروعات پر ہی سخت جاں ہو جاییں.. مکافات کی چکی نہیں رکتی اس پر سے اتر کر ہی عمل روکا جا سکتا ہے..

یہ سن کر وہ گھر کو واپس لوٹ گیا گھر پہنچا تو دیکھا کہ اس کی والدہ محترمہ جو کہ ہارٹ کی مریضہ تھیں بے ہوش پڑی ہیں. یہ وہ لڑکا ہے جس کے سر پر باپ کا سایہ نہیں جس وجہ سے دنیا بھی اسے شروع سے کہہ رہی تھی کہ بگڑ جائے گا کوئی گل کھلاے گا... اس وقت نظر کے سامنے ماں کو اس حال میں دیکھ کر کانپ اٹھا اور سب آوازیں اس کے کانوں میں گونجنے لگی. ماں کو ہسپتال لے جا کر ایڈمٹ کروایا ...

کچھ وقت بعد ڈاکٹر صاحبہ نے آکر کہا کہ اللّٰہ کریم کا شکر ہے کہ تم وقت پر انہیں یہاں لے آئے ورنہ ان کی جان بچانا بہت مشکل تھا...یہ سن کر اس کے خیالات پر خاموشی چھا گئی اور سوچنے لگا کہ آج اگر وہ محبت نہ ٹھکرایی جاتی تو شاید وہ اس شفقت محبت اور سکون کو.. اور اپنی ابدی جنت کو ہمیشہ کے لیے گوا دیتا..اور بولا الحمد لِلَّه.......

پھر اس کے ذہن میں سوال آیا کہ اس مصلحت کا اندازہ اس لڑکی کو کیسے تھا.. اس نے معصومہ کو کال کی اور سب حالات سے آگاہی دیتے ہوئے سوال کیا کہ مجھے تو لوٹ آنے کا فائدہ ہو گیا. مگر تم نے یہ چار سال پرانی محبت چند سیکنڈ میں کیسے موڑ دی تمہیں کیا مصلحت دکھائی دی کس بات پر یہ کڑوا گھونٹ بھرا....

معصومہ کچھ دیر خاموش رہی اور پھر کہا کہ.. وہ کاغذ جو میں نے تمہیں تھمایا تھا. وہ میرے مرحوم ماں باپ کا خط ہے جو دادا ابو سے لی گئی ابو کی ایک ڈائری میں مجھے ملا اس میں تمہیں جواب مل جائے گا... فون کاٹ دیا.. لڑکا دوڑا ہوا گھر کی طرف گیا جہاں غصے میں اس نے وہ کاغذ گرایا تھا...کاغذ ڈھونڈا.. نے کاغذ اٹھایا اور پڑھا تو ایک عجیب سی کیفیت میں مبتلا ہو کر رہ گیا.

معصومہ کے والد محترم اپنی بیگم کے ساتھ ایک حادثے میں میں ہلاک ہوئے تھے انہوں نے اس کاغذ میں اپنی ایک غلطی کا اعتراف
کیا تھا جو معصومہ کے دادا جان کی معذوری اور دادی کی موت کا سبب تھا معصومہ کے والد نے لکھا کہ میری بربادیوں اور اس طرح کا سبب یہ ہے کہ میں اپنی نو سالہ منتظر محبت کے پہلو میں وقت بتانے کے لئے 24 سالہ شفقت و محبت کے آنگن کو چھوڑا

میرا قصور یہ ہے کہ میں نے کسی کی باہوں میں چند گھنٹے بتانے کی خاطر کسی کے وجود میں گزارے نو مہینے بھلا ڈالے میرا قصور یہ ہے کہ میں نے دنیا کی ایک حور جیسی لڑکی کی محبت میں ان کے قدموں تلے زمین نہ رہنے دیں جن میں ایسی جنت کا خدمت کا تقاضا کرتے ہوئے میری منتظر تھی جہاں اس لڑکی سے زیادہ درجے زیادہ خوبصورت اور
پاکیزہ سیرت حوریں مل سکتی تھی میں نے جنون کی خاطر سکون کو ٹھکرایا میں مکافات کا کیا گردش میں لا یا


اب بیٹی معصومہ کو ماں کے ساتھ کھیلتا دیکھتا ہوں تو ڈر لگتا ہے کہ کہیں میری بیگم پر بھی وہ نہ گزرے جو اس کی اور میری جلد بازی کی وجہ سے اس کی ماں پر گزری دعا ہے کہ اللہ کریم بی بی زہرہ پاک کے صدقے میری موسومہ کو مکافات کی زد میں آنے سے بچائے اللہ کریم نے شاید یہی دعا سن کر مکافات کا پیا روک دیا

خیر میری تحریر کا مقصد دورحاضر کی مجنوں کو یہ بات واضح کرنا ہے کہ کسی کے ساتھ بتایا طویل ترین عرصہ محبت بھی اس محبت و خلوص اور وقت کا مقابلہ نہیں کر سکتا جو ہم نے کسی کے وجود نے بتایا اگر حقیقت سے رخ پرپهیرا جائے تو کی نسلیں اس بربادی کے زیر ہوتی چلی جاتی ہے اس لیے ہر بار قدرت کو قصور وار نہیں ٹھہرایا جاسکتا کیونکہ انسان اپنے نفس کی اصلاح اور خواہشات پر قابو پاکر اس پائے کی گردش کو روکنے کی کوشش بھی کر سکتا ہے
admin
admin Unregistered user

Comments 0

No comments has been added yet